نئی دہلی، 10؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)آر ٹی آئی کے تحت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پتہ چلا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر ان درخواستوں کے سلسلے میں کوئی معلومات نہیں رکھتاجنہیں وزیر اعظم نے ذاتی طور پر پڑھا ہے اور یکم جون 2014سے 31جنوری 2016کے درمیان پی ایم اومیں10لاکھ سے زیادہ شکایتیں اور رٹ آئیں۔آر ٹی آئی درخواست گزار اسیم تکیار نے وزیر اعظم کے دفتر کو یکم مئی2014سے اب تک ملی شکایات، درخواستوں کی کل تعداد پوچھی تھی جس کے جواب میں پی ایم او نے کہا کہ معلومات بہت وسیع ہے۔آر ٹی آئی عرضی کے جواب میں کہا گیا کہ اگرچہ یہ مطلع کیا جا سکتا ہے کہ یکم جون 2014سے31جنوری2016تک پی ایم او نے تقریبا 10لاکھ درخواستوں کا نمٹارا کیا ہے۔اس میں کہا گیا کہ پی ایم او کے پبلک سیل میں روزانہ بڑی تعداد میں شکایات، درخواستیں اورخطوط آتے ہیں۔جواب کے مطابق ان کی تفتیش کی جاتی ہے اور جن پرکارروائی نہیں کی جاتی۔ان کو فائل میں لگا دیا جاتا ہے اور قابل عمل عرضیوں کو مناسب کارروائی کے لئے متعلقہ حکام کوبھیجاجاتاہے جن پر وزیر اعظم یا سینئر حکام کی طرف سے تبادلہ خیال کی ضرورت ہے ان کے معاملے میں غور کرنے کے بعدانہیں بھیجا جاتا ہے۔تاہم وزیر اعظم کی طرف سے ذاتی طور پر پڑھی جانے والی شکایات اوردرخواستوں کی تعداد کی معلومات نہیں رکھی جاتی۔